ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / یکساں سول کوڈ کاشوشہ سیاسی فائدہ کیلئے چھوڑا گیا ہے،مسلم پرسنل لاء بورڈ تعلیمات اسلامی کے متعلق عام بیداری لائے: سی ایم ابراہیم

یکساں سول کوڈ کاشوشہ سیاسی فائدہ کیلئے چھوڑا گیا ہے،مسلم پرسنل لاء بورڈ تعلیمات اسلامی کے متعلق عام بیداری لائے: سی ایم ابراہیم

Thu, 20 Oct 2016 11:17:01    S.O. News Service

بنگلورو،19؍اکتوبر(ایس اونیوز)مرکزی حکومت کی طرف سے طلاق ثلاثہ کے معاملہ میں سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کرکے مسلم پرسنل لاء بورڈ میں مداخلت کی جو کوشش کی گئی ہے وہ دراصل آنے والے اترپردیش اسمبلی انتخابات کو سامنے رکھ کر کی گئی ہے۔ مرکزی حکومت کی اس کوشش کو ہرگز کامیاب ہونے نہ دیا جائے۔ یہ بات آج سینئر کانگریس لیڈر اور سابق مرکزی وزیر سی ایم ابراہیم نے کہی ۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مسلم پرسنل لاء بورڈ میں مداخلت کے ذریعہ بی جے پی اپنا انتخابی کھیل کھیل رہی ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کو چاہئے کہ تمام مسالک سے وابستہ مسلمانوں کو ساتھ لے کر شرعی قوانین اور نکاح وطلاق کے متعلق اسلامی تعلیمات سپریم کورٹ اور اس ملک کے عوام کے سامنے پیش کرے ۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کے لاء کمیشن کی طرف سے یکساں سول کوڈ کے سلسلہ میں جو سوالنامہ جاری کیاگیا ہے ، مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے، اس کے باوجود بھی مسلم پرسنل لاء بورڈ کو چاہئے کہ اچھے وکیلوں کے ذریعہ لاء کمیشن سے رجوع کرے ۔ نکاح ، طلاق اور خلع وغیرہ کے متعلق اسلامی تعلیمات سے لاء کمیشن کو آگاہ کرائے۔ انہوں نے کہاکہ مذہب اسلام نے نکاح کو میاں بیوی کے درمیان ایک معاہدہ قرار دیا ہے۔ قانون شریعت کی رو سے جب میاں اور بیوی نکاح قبول کرتے ہیں اسی وقت وہ یہ اقرار بھی کرلیتے ہیں کہ طلاق اور خلع کے متعلق جو شرعی قوانین ہیں اس پر بھی عمل کریں گے۔اس کیلئے انہیں الگ سے دستخط کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ سپریم کورٹ کو یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ طلاق عورتوں پر ظلم نہیں ہے ،بلکہ ظالم شوہر سے چھٹکارے کا ایک ذریعہ ہے۔ مگر بدقسمتی سے مسلم پرسنل لاء بورڈ یا اس کا کوئی نمائندہ اب تک حکومت یا عدالت کے سامنے صحیح اسلامی تعلیمات کو پیش نہیں کرپایا۔مرکزی حکومت کی طرف سے ملک کے تمام شہریوں کیلئے یکساں قانون لانے کی پہل پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس ملک میں یکساں قانون آزادی سے اب تک رائج ہے ، جہاں تک مسلم پرسنل لاء کا تعلق ہے وہ صرف مسلمان اپنے گھروں تک محدود رکھتے ہیں۔عائلی مسائل یا جائیدادوں کی تقسیم کے علاوہ اس ملک میں کوئی شرعی قانون لاگو نہیں ہے۔ جرائم سے نمٹنے اور دیگر امور پر ملک کا مسلمان ملک کے آئین کے مطابق تمام قوانین کو تسلیم کرتا ہے، اگر ان امور میں بھی شرعی قوانین لاگو ہوتے تو چور کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا اور قاتل کاسر قلم کردیا جاتا۔ ملک کے مسلمانوں نے ملک کے قانون کو تسلیم کرلیا ہے۔ یکساں سول کوڈ کی آڑ میں حکومت مسلمانوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت کرنا چاہتی ہے جو کبھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ 14 سو سال سے ساری دنیا میں شریعت اسلامی رائج ہے اور قیامت تک رائج رہے گی۔اس میں کوئی بھی تبدیلی نہیں لاسکتا۔ انہوں نے امیرشریعت مفتی اشرف علی ، مولانا مفتی شمس الحق قادری، مولانا تنویر ہاشمی، اہل حدیث کے نمائندوں اور دیگر علمائے کرام سے اپیل کی کہ وہ فوراً ایک نشست طلب کریں اور شریعت اسلامی کے متعلق مسلمانوں کا موقف سپریم کورٹ میں پیش کرنے کیلئے کرناٹک کی سطح پر ہی ایک مسودہ وضع کریں تاکہ عدالتوں کو بھی پتہ چل جائے کہ شریعت اسلامی کو بدنام کرنے کیلئے مٹھی بھر خواتین عدالتوں کو گمراہ کررہی ہیں۔اسلام کی اصل تعلیمات خواتین سے ہمدردی کا درس دیتی ہیں۔ 

وقف بورڈ انتخابات: ریاستی وقف بورڈ کیلئے متولیان کے اندراج کو فوری طور پر مکمل کروانے اور اس میں خامیوں کودور کرنے وزیر اوقاف تنویر سیٹھ سے گذارش کرتے ہوئے سی ایم ابراہیم نے کہاکہ فی الوقت جو متولیان کی فہرست ہے اس میں بہت ساری خامیاں ہیں ان تمام کو فوراً دور کیا جائے ورنہ اس کے خلاف ریاست گیر پیمانے پر تحریک شروع کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ پہلی بار ریاست میں وقف انتخابات میں ووٹ کیلئے نوٹ کا استعمال دیکھا گیا۔ اﷲ کی امانتوں کی حفاظت کیلئے دیانتدار لوگوں کی ضرورت ہے۔ان کی ضرورت نہیں جو بھاری رقم خرچ کرکے کرسی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے وزیر موصوف سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر متولیان کی فہرست سے خامیوں کو دور کیا جائے ورنہ وہ خاموش نہیں رہیں گے۔ 


Share: